PkPoint.com

آخری گجرا

افسانہ نگار: محمد جاوید انور

اور پھر ہماری شادی ہو گئی۔

رضیہ میرے خوابوں کی شہزادی تھی۔

میں کیا اور میرے خواب کیا۔

لیکن خواب تو سبھی کے ہوتے ہیں اور خوابوں کی شہزادیاں بھی۔

میرے پاس تھا کیا اسے دینے کو؟ پھر بھی وہ خوش تھی کہ جو کچھ چھوڑ کر آرہی تھی وہ بھی کسی کو شہزادی نہیں بنا سکتا، بس خوابوں کی شہزادی ہی بنا سکتا تھا۔

چاچے فضل دین کی رجو میرے ہی نہیں، میرے جیسے بہت سے گئے گزرے شہزادوں کے خوابوں کی شہزادی تھی اور ہم بھی بس شہزادے ہی تھے۔

اپنی ماؤں کے شہزادے۔ تنگ، کیچڑ بھری گلیوں، بدبودار کھلی نالیوں اور ان کے کنارے آوارہ پاخانے پر بھنبھناتی مکھیوں کے ساتھ مانوس، بغیر منہ دھوئے سارا سارا دن آوارہ گردی کرنے والے شہزادے۔

ایک دن سکول اور دو دن بابا شاہ ملنگ کے دربار پر آوارہ گھوم کر گھر لوٹ آنے والے شہزادے۔

ایک ایک جماعت میں کئی کئی سال گزار کر اساتذہ سے مضحکہ خیز القابات حاصل کرنے والے شہزادے۔

ہمیں جیسوں کو لوگ کہتے ہیں،

’’او جا تو بھی شہزادہ ہی ہے۔‘‘

خیر!

ان حالات میں اگر رجو میرے خوابوں کی شہزادی تھی تو کسی کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ کوئی مجھے اور رجو کو کیوں جاننے لگا کہ اعتراض کی نوبت آئے۔

اور جو ہمیں جانتے تھے وہ میرے ہی جیسے شہزادے تھے، جن کے خوابوں کی شہزادیاں بھی بس رجو جیسی ہی تھیں۔

’’او جا! تو بھی شہزادی ہی ہے۔‘‘

ابا کی کھیل مرونڈے کی چھابڑی سے گھر جیسا تیسا چل رہا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ بڑی مشکل سے چل رہا تھا۔

کسی نے کہا گنے کی گنڈیریوں کے کام میں پیسے زیادہ بچتے ہیں۔ بس ابے نے شام کو چاچے کرم داد سے گنڈیریاں چھیلنا سیکھنا شروع کر دیا۔ ایک ہفتے کی ٹریننگ کافی رہی۔ مضافات سے پونے گنے سے لدی ٹرالیاں ٹریکٹروں کے پیچھے بھاگتی ہرے ہرے، لمبے اور موٹے، گداز گنے لاتیں تو ابا منڈی سے دو گٹھے صبح ہی صبح خرید کر سائیکل پر لاد لاتا۔ چھیل چھال کر گنڈیریاں بنائی جاتیں۔

ابے نے ماسٹر غلام نبی سے لکڑی کی ریڑھی مناسب کرائے پر لے لی۔ میٹھی گنڈیریوں کو ٹوکے سے کٹاک، کٹاک، کاٹ کر ڈھیر لگا لیا جاتا۔ ابا ریڑھی پر لال رنگ کا پلاسٹک بچھاتا، برف کا بڑا سا ٹکڑا جما کر اس کے اوپر میٹھی گنڈیریاں قطار اندر قطار سجاتا۔ اس اہتمام کے بعد شہباز کی دکان سے خریدی، دیسی گلاب کی خوشبو دار، تازہ پتیوں کا چھڑکاؤ سا کر دیا جاتا۔ ترازو باٹ ریڑھی کے نیچے رکھے جاتے۔ پھر چھیلے ہوئے گنوں کے لامبے ٹوٹے ریڑھی کے نچلے خانے میں ٹکائے جاتے۔ گنڈیریوں کی مٹھاس پر مدھ مکھیاں اور بھڑ اُمڈ اُمڈ کر آتے اور مٹھاس چاٹتے، کاٹے بغیر لوٹ جاتے۔

زندگی کے پل، پہر، دن اور ماہ و سال گزرتے چلے گئے۔ عمر ایسے کٹتی گئی جیسے ابے کی گنڈیریاں۔

کٹ کٹا کٹ، کٹ۔ کٹ کٹا کٹ ……

اور ابے کے ٹوکے کی کٹ کٹا کٹ کے سر پر ہمارا سارا گھر دھمال ڈالتا رہا۔

کٹ کٹا کٹ، کٹ کٹا کٹ۔

دھم دھما دھم۔ دھم دھما دھم۔

ابا جو کماتا لا کر اماں کے ہاتھ پر رکھتا۔

میں نے کبھی ابے کو اماں سے ناراض ہوتے، چیختے چلاتے نہیں دیکھا۔

ابا رات کو ریڑھی دھکیلتا تھکا تھکایا آتا۔ ابے کی ریڑھی کے ساتھ ہی ساتھ، اس سے آگے ہی آگے چھیلے گنوں کی بوجھل میٹھی خوشبو ہماری کوٹھڑی میں آگھستی۔

اماں اگر لیٹی ہوتی تو بھی فوراً اٹھ جاتی۔ آگے بڑھ کر ابے کی ریڑھی کا اگلا کنارا پکڑ کر ریڑھی گھر کی دہلیز پارکرانے میں ابے کی مدد کرتی۔ مہکتے کچے آنگن میں ہلکی لکیریں بناتی ریڑھی صحن کے آخری کونے میں اپنی جگہ ٹک جاتی۔ ابا بچی ہوئی برف اور گنڈیریاں سب سے پہلے اماں کے حوالے کرتا۔ اماں اوک بھر گنڈیریاں مجھے اور اوک بھر میری چھوٹی بہن کو دیتی۔ اگر پھر بھی کچھ بچ رہتیں تو گیلی بوری میں لپیٹ کر کوٹھڑی کے کونے میں بچھے پلاسٹک پر سینت کر رکھتی۔ مجھے یاد نہیں کہ کوئی ایک دن بھی ایسا گزرا ہو جو اَبا ہمارے لئے، ہمارے حصے کی گنڈیریاں بچا کر نہ لایا ہو۔

ابا اپنے سر کا پٹکا کھول کر جھاڑتا اور سر پر ہاتھ پھیر کر اپنے چھدرے بالوں کو چھانٹتا۔

جوتا اتار کر اسے زور زور سے ٹھونک کر اس میں سے دن بھر کی تھکن اور گرد نکالتا، پھر چارپائی کے نیچے رکھ دیتا۔

ابا کچھ دیر ننگے پیر پھر کر اپنے پاؤں کو سہلاتا اور پھر جیب میں ہاتھ ڈال کر دن بھر کی کمائی رقم اماں کی ہتھیلی پر رکھ دیتا۔

’’لے بھئی بھلی لوک! آج کی ’’وٹک‘‘۔

کل کے گنے کے پیسے مجھے نکال دینا۔‘‘

اماں بسم اللہ پڑھ کر گن کر روپے علیحدہ کرتی اور ابے کو دے کر تھوڑے سے بچے ہوئے پیسے پلو میں باندھ لیتی۔ ان میں سے بجلی، گیس، پانی، دودھ، راشن، دوا دارو، ہماری فیس، کتاب کاپی، کپڑا لتا، لینا دینا جانے کیا کیا بھگتنا باقی ہوتا۔

ہم دو ہی بہن بھائی تھے، جو باقاعدہ منصوبہ بندی کا شاخسانہ نہیں تھا بلکہ کسی جسمانی عارضہ کی کارستانی تھی۔ اس بات پر ابا نہ خوش تھا، نہ ناراض۔ اماں البتہ کبھی کبھی بہت افسوس کرتی کہ میرا کوئی بھائی نہ تھا جو بازو بنتا اور گڈو کی کوئی بہن نہ تھی جو سہیلی بنتی۔ ذاتی طور پر مجھے نہ کبھی بھائی کی کمی کھلی، کہ محلہ میرے یاروں سے بھرا پڑا تھا اور نہ دوسری بہن کی ضرورت محسوس ہوئی۔

گڈو مجھے اتنی پیاری تھی کہ میری ساری توجہ اور سارا پیار بھی اس کے لئے کم تھا۔

اگر میری اب تک کی کتھا کہانی سے کوئی یہ تاثر لے کہ ہم بہت مزے میں تھے اور کوئی خاص مسئلہ نہیں تھا تو یہ سخت غلط فہمی ہوگی۔

امی کی کڑھائی سے اکٹھی کی گئی رقم بھی ختم ہو جاتی تو ہمیں پتہ چل جاتا کہ کل ناشتے میں دہی نہیں ملے گا اور پراٹھے کی جگہ خشک روٹی ہوگی۔ وہ بھی شاید رات کی بچی ہوئی، باسی۔

ہمیں اس صورت حال سے سمجھوتہ کرنے کی عادت ہو گئی تھی۔ ہم جانتے تھے کہ بس یہی کچھ ممکن تھا جو ابا اور اماں جان مار کر ہمیں مہیا کر سکتے تھے۔ وہ نہ ہم سے کچھ چھپاتے اور نہ بچاتے تھے۔ سب دکھ سکھ سانجھا تھا تو گِلہ کیا اور شکایت کیا۔

مگر بات تو میری اور رجو کی ہو رہی تھی۔ ہم کدھر اماں اور ابے کی کہانی لے بیٹھے۔ وہ تو پتہ نہیں کس مٹی کے بنے تھے۔ لیکن تھے کسی ایک ہی مٹی کے، یہ تو ہم بھی جان گئے تھے۔

میں نے ابے اور امی کو خوب خوب تنگ کیا۔ ابے کی محنت کی کمائی کی فیسیں ضائع کرتے کچھ شرم نہ آتی۔ بس مست تھا۔ اپنے ہمجولیوں میں یوں بھاگا پھرتا جیسے زندگی مذاق ہی ہو۔ ہر اُفق پر کہکشاں نظر آتی تھی۔ ہر سراب ٹھاٹھیں مارتا دریا، بلکہ سمندر دکھتا تھا۔

گڈو مجھ سے چھوٹی تھی۔ پانچویں پاس کر کے گھر بیٹھ گئی اور ماں کی مددگار بن گئی۔

کہتے ہیں لڑکیاں جلدی بڑی ہو جاتی ہیں۔ گڈو ابھی کچھ زیادہ بھی بڑی نہیں ہوئی تھی کہ نذیر کی ڈولی میں بٹھا دی گئی۔ نذیر کا قصبہ ہمارے شہر سے بہت دور نہیں تھا، پھر بھی اتنی دور ضرور تھا کہ گڈو چاہتے ہوئے بھی ہمیں چار چھ مہینے سے قبل ملنے نہ آپاتی۔ اپنے والد کے فوت ہونے کے بعد، اپنی شادی سے پہلے ہی نذیر اپنے والد کا چھوٹا سا سائیکل پنکچر کا اڈہ اکیلا چلا رہا تھا۔ بمشکل گھر کے اخراجات پورے کرتا۔ گڈو کے آجانے سے اسے گھر کی فکر کم ہو گئی کیونکہ گڈو کم عمر ہونے کے باوجود بڑی سگھڑ گرہستن نکلی۔ اس کے ذمہ دارانہ کردار نے اسے اپنی سسرال میں اتنا اہم بنا دیا کہ نذیر اور اس کی ماں کو لگتا گڈو دائیں سے بائیں ہوئی تو ان کا گھر گر پڑے گا۔

مجھے گڈو میں اماں کی جھلک نظر آتی۔

ابے اور امی کو اس بات کی خوشی اور سکون تھا کہ گڈو اپنے گھر میں اتنی اہم بن گئی تھی۔ شادی کے شروع میں ان کی اداسی دیکھی نہ جاتی تھی۔ آہستہ آہستہ وہ یہ بہت بڑی کمی برداشت کر گئے۔

میری آوارہ گردی اور ابا کی کٹ، کٹا، کٹ … میں میری زندگی بہت مزے سے گزر رہی تھی۔

چاچے فضل دین کی ابے سے یاری نہ ہوتی اور میری امی کو وہ چھوٹی بہن نہ سمجھتا تو مجھ جیسے لاپروا لڑکے کو  رجو  کا ایک بال بھی اکھاڑ کر نہ دیتا۔

رجو اماں کی لاڈلی بن گئی۔

گڈو کے حصہ کی اوک بھر گنڈیریاں اب ہر رات رجو کا حصہ بنتیں۔

نہ بنا تو میں، کچھ نہ بنا۔

بس ’’شہزادے کا شہزادہ‘‘ ہی رہا۔

لاپروا  اور کھلنڈرا۔

کسی کے ابا کو مرنا نہیں چاہئے۔

اور پھر میرے ابا جیسے ابے کو تو کبھی بھی نہیں مرنا چاہئے۔

اس لئے کہ جب ایسے ابے مرتے ہیں تو پھر امیاں بھی زیادہ دیر زندہ نہیں رہتیں۔

میرے ابے نے میرے ساتھ یہی کچھ کیا۔

ایک شام کو چنگا بھلا کام سے واپس آیا۔ ہماری اوک بھر گنڈیریاں ہم تک پہنچیں۔ اماں کی معمول کی رسومات ادا ہوئیں۔ رات کا کھانا کھا کر، صبح کی تیاری کر کے ابا چھت پر جا سویا۔

صبح دھوپ چڑھ آئی، پر ابا نہیں اٹھا۔ امی نے مجھے کہا کہ ابے کو جگا۔ اٹھے گا تو وقت پر گنڈیریاں کاٹ کر تیاری کرے گا۔ نہ جگایا تو ڈانٹے گا کہ سارا دن خراب کر دیا۔ شاید زیادہ تھک کر سویا ہے جو سویا ہی پڑا ہے۔ اماں پراٹھے بنانے کی تیاری میں لگ گئی۔ میں سیڑھیاں پھلانگتا چھت پر ابے کو جگانے گیا۔ دیکھا کہ وہ چارپائی پر چت لیٹا تھا۔ ڈبیوں والا کھیس چارپائی سے نیچے کچی چھت پر گرا پڑا تھا۔

میں نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر آواز دی تو ابا اٹھا ہی نہیں۔

پھر میرا اَبا کبھی نہیں اٹھا۔

کبھی بھی نہیں۔

دیسی گلاب کی پتیوں سے ڈھکا مہکتا جنازہ اٹھا تو اماں، گڈو اور رجو بے اختیار ساتھ ہو لیں۔

محلے کی عورتیں بمشکل انہیں گلی کے نکڑ سے واپس لائیں۔

ان کا بس چلتا تو ابے کے ساتھ ہی قبرستان جا بستیں۔

پھر میں بھی کاہے کو گھر رہتا۔

ابے کو دفنانے کے لئے بھاگ دوڑ کرنا پڑی۔

محلے کا قریبی قبرستان، ارد گرد بڑی پرانی آبادی ہونے کی وجہ سے، قبروں سے مکمل بھر چکا تھا۔ میں جب کھیلتا کودتا کبھی قبرستان میں جا نکلتا تو سوچا کرتا کہ مُردے اتنی قربت میں کیسے رہتے ہوں گے۔ کروٹ تک لینا محال ہوگا۔ آج ابے کے لئے جگہ کی ضرورت پڑی تو مسئلہ کھل کر سامنے آیا۔

نئی قبر کی جگہ باقی ہی نہیں بچی تھی۔ ابے کے یاروں نے گورکن سے سازباز کر کے ایک جگہ حاصل کر لی۔ جب ابے کو دفن کرنے کا وقت آیا تو مجھے لگا کہ قبر شاید پرانی ہے اور چھیل چھال کر نئی بنائی گئی ہے۔ میں شور مچانے ہی والا تھا کہ مجھے خیال آیا ابا کون سا سبھی چیزیں نئی استعمال کرتا تھا۔ کتنی ہی بار اس نے لاتعداد استعمال شدہ چیزوں کے ساتھ بڑی خوشی سے گزارا کیا تھا۔ مجھے لگا ابے کو اتنی مشکل سے حاصل کی گئی استعمال شدہ قبر پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ پھر قریب ترین قبرستان ہونے کی وجہ سے اماں کو بھی زیارت میں آسانی ہوگی۔

نہ میں نے اعتراض کیا، نہ ابا کی میت نے اور ہم دونوں بخوشی اس جیسی تیسی قبر پر مطمئن ہو گئے۔

ایک فضول سا خیال میرے ذہن میں، اتنے صدمہ کے باوجود بھی، جانے کدھر سے آگیا۔ میری اماں کی بھی تو میرے ابا سے دوسری شادی ہی تھی۔ بالکل نوعمری میں بیوہ ہونے کے بعد ابا سے جو شادی ہوئی تو کسی کنواری دلہن کو بھی کیا راس آئی ہوگی، جو اس بیوہ کو راس آئی۔ ہم یہ فیصلہ نہ کر پائے کہ ابا اماں کے ساتھ زیادہ خوش اور مطمئن تھا یا اماں ابا کے ساتھ۔ ہم نے تو مشکل سے مشکل اور اچھے سے اچھے وقت میں دونوں کو کاندھے سے کاندھا ملائے یک جان و دو قالب، مطمئن اور شاکر، جیون نیا کھیتے دیکھا۔ دونوں یوں لازم و ملزوم کہ کسی ایک کے بغیر گھر کا تصور، محال نہیں ناممکن۔

اماں شادی کے بعد شاید ہی کبھی میکے گئی ہو۔ ایک بار نانی کے بہت اصرار پر سات دن کے لئے گئی تو ابا تیسرے دن ہی جا کر واپس لے آیا کہ، ’’ہمارا گھر نہیں چلتا۔‘‘

اگرچہ گڈو اماں کی موجودگی میں بھی کھانا بنا لیتی تھی، جو ابا کو پتہ بھی نہیں چلتا تھا کہ اماں نے بنایا ہے یا اس کی شاگردی میں گڈو نے، لیکن جب اماں کی غیر حاضری میں گڈو نے ابا کو کھانا دیا تو ایسے لگا جیسے نوالے اس کے حلق سے اتر ہی نہیں رہے۔

بولا، ’’گڈو برتن لے لو۔ تیری اماں نے تجھے اپنے جیسا کھانا بنانا سکھایا ہی نہیں۔‘‘

میں اور گڈوایک دوسرے کی طرف کنکھیوں سے دیکھ، مسکرا کر رہ گئے۔

ارے بات، پھر اماں اور ابا کی شروع ہو گئی۔

مجھے شاید اور کوئی بات ہی نہیں آتی۔

ابا فوت ہوا تو اماں روئی نہیں۔

بس اماں اماں نہ رہی۔

لگتا کوئی اجنبی روح جانے پہچانے بُت کو گھسیٹتی پھرتی ہے۔

بے جان سی گڑیا کی طرح ڈولتی، ٹھوکریں کھاتی، بے دھیان چلتی پھرتی۔

صبح اٹھتی ، نماز پڑھتی اور قبرستان روانہ ہو جاتی۔ ابے کی قبر پر کھڑی ہو کر فاتحہ پڑھتی، پڑھتی ہی چلی جاتی۔ کھڑی کھڑی تھک جاتی تو بیٹھ کر پڑھنا جاری رکھتی۔ بہت دھوپ چڑھنے پر واپسی کی راہ پکڑتی۔ کھانا بس نہ کھانے جیسا کھاتی۔ کبھی دو لقمے لے لئے اور کبھی وہ بھی نہ لئے۔ دسویں تک اماں آدھی رہ گئی اور چالیسویں تک اماں سے چارپائی چھوڑی نہ جاتی تھی۔

ابے کے جانے کے ٹھیک دو مہینے اور چار دن بعد اماں بھی رخصت ہو گئی۔

اماں کے لئے قبر کا بندوبست ابا کے دوستوں ہی نے کیا۔ ابا کی قبر سے آٹھ دس قبروں کے فاصلے پر ایک قبر کی جگہ بنا لی گئی۔

ابا اور پھر اماں کے مرنے پر میں اور رجو بالکل لاوارث ہو گئے۔ ابا تھا تو میں تقریباً بے کار ہی تھا۔ زیادہ سے زیادہ گنے چھیلنے اور گنڈیریاں کاٹنے میں کبھی کبھار ابے کی کچھ مدد کر دیتا۔ ابا ریڑھی لے کر بازار نکل جاتا اور میں آوارہ گردی کو۔ ابے کی عادت زیادہ سختی والی نہیں تھی۔ بس مجھے آرام سے اور بار بار سمجھاتا کہ میری شادی ہو چکی تھی اور مجھے ذمہ دار ہوجانا چاہئے۔ میں سر نیچے کر کے سن لیتااور کوئی اثر نہ لیتا۔

اماں البتہ زیادہ زور دیتی اور شرم دلاتی کہ شادی شدہ ہو کر بھی میں غیر ذمہ دار تھا۔ کل کو بچے پیدا ہو جائیں گے تو ضروریات بڑھ جائیں گی۔ اماں یہ بھی کہتی کہ ابا کی بوڑھی ہڈیاں کب تک میرا اور میری بیوی سمیت گھر ہستی کا بوجھ اٹھائیں گی۔ میں جوان تھا، ہٹا کٹا تھا۔ ساتویں سے آگے پڑھ کر نہیں دیکھا تھا، نہ کوئی ہنر سیکھا تو میرا بنے گا کیا۔ مجھے ابے کی بات کا کچھ اثر ہوتا، نہ اماں کا۔

میں تو تھا ہی ازلی، مستند ڈھیٹ۔

اماں کا چالیسواں بھی گزر گیا۔

ہمارے ہاں مرگ گھر والوں کے لئے مالی بوجھ ہی بنتی ہے۔ رشتے دار ہاتھ بٹانے کی بجائے اخراجات کا باعث بنتے ہیں۔ کفن، قبر، مولوی صاحب، قُل، دسواں اور چالیسواں۔

پھر جس گھر میں اوپر تلے دو اَموات ہو جائیں اور رخصت بھی وہ ہوں جو بنیادی ستون ہوں، جن پر مکمل گھر ٹکا ہو تو آپ اندازہ لگائیں کہ باقی کیا بچے گا۔

ہمارا پس انداز کچھ زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ جب ہوش آیا تو تقریباً قلاش تھے۔

ماسٹر غلام نبی والی ریڑھی ابے کے مرنے والے دن سے اسی کونے میں کھڑی تھی، جہاں ابا اسے کھڑا کر گیا تھا۔ میں جب بھی اسے دیکھتا تو سو منظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے۔ کیسے ابا امی کی مدد سے، آخری بار ریڑھی گھر کے اندر لایا تھا۔ مجھے بھول ہی نہیں پاتا تھا کہ اس شام کیسے روز ہی کی طرح کھلی کھلی اماں، بے مقصد ابے کے پیچھے چلتے، صحن سے پار دیوار تک گئی تھی جہاں ابے نے روزانہ کے معمول والی جگہ ریڑھی کھڑی کرکے کرتے کی جیب میں مسکراتے ہوئے ہاتھ ڈالا تھا۔ اس دن ایسے محسوس ہوا تھا جیسے ابا دن بھر کے جمع شدہ پیسے ایک منٹ بھی اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ جو خوشی اسے پیسے اماں کے ہاتھ پر رکھ کر ملتی تھی وہ جلد سے جلد حاصل کرنا چاہتا تھا۔

بات پھر اماں ابا کی شروع ہو گئی۔ لگتا ہے میری زندگی میں اور کچھ ہے ہی نہیں جیسے مجھے اور کوئی بات آتی ہی نہیں۔ جیسے میری زندگی اماں ابا پر رک گئی ہو۔

لیکن زندگی بھی رکی ہے کبھی۔

جب روٹی کے لالے پڑے تو میں نے سوچا کہ خود تو مانگ تانگ کر کھا بھی لوں، لیکن بیوی کا کیا کروں گا۔ پھر ایک جان اور آنے والی تھی۔

زندگی یہ نہیں دیکھتی کہ کون کتنا لاڈلا یا کتنا لاپروا تھا۔ زندگی بے رحمی سے اپنا خراج مانگتی ہے۔

اب جب سر پر کوئی نہیں تھا، جب اور کوئی چارہ ہی نہیں تھا تو مجھے بہرحال بدلنا تھا۔ اب نہ ابا تھا کہ سارا آسماں ہمارے سر پر تھامے رکھے، نہ اماں تھی کہ دیکھوں تو کلیجہ ٹھنڈا ہو جائے۔

اب میں تھا، رجو تھی اور اک آنے والی روح تھی، بس۔

جب سب بدل گیا تھا تو میں بھی خود ہی بدل گیا۔

اب کون تھا جو میرے لاڈ دیکھتا۔

میں نے اک عزم کے ساتھ ریڑھی صحن کے کونے میں لگے پانی کے نل کے پاس کھڑی کی اور مہینوں کی جمی دھول مٹی کو دھو ڈالا۔ لال پلاسٹک کو کپڑے دھونے والے صابن سے دھویا اور ریڑھی کو صحن میں مارچ کی دھوپ میں خشک ہونے کے لئے کھڑا کر دیا۔

متعلقہ خبریں

اماں کی صندوقچی سے بچے کھچے پیسے لے کر صبح ہی صبح سبزی منڈی پہنچ گیا۔ دو کی بجائے ایک گٹھا گنے خریدے اور سائیکل پر لاد بمشکل گھر لایا۔ میں نے اور رجو نے مل کر گنے چھیلے اور بڑی دقت سے ٹیڑھی میڑھی گنڈیریاں کاٹیں۔

صبح ہی صبح میں ترازو باٹ جما، ریڑھی لے کر نکلا تو رضیہ میرے ساتھ باہر گلی تک آئی۔

مجھے رخصت کرنے لگی تو اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ یقینا سوچ رہی ہوگی کہ ابا ہوتا تو میں کبھی بھی اس کام میں نہ پڑتا۔ بس آوارہ گرد شہزادہ ہی بنا رہتا۔

وقت بھی انسان کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے اور کیا کیا کروا دیتا ہے۔

ریڑھی دھکیلتے دھکیلتے میں کتابوں کی ان دکانوں کے سامنے جا پہنچا جہاں ابا ریڑھی لگایا کرتا تھا۔

میں یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا کہ ایک بڑی مونچھوں اور پھولے ہوئے پیٹ والا فروٹ چاٹ فروش عین اس جگہ ریڑھی لگائے دھندہ کر رہا تھا جہاں ابا کا ڈیرہ ہوا کرتا تھا۔ میری ریڑھی پر نظر پڑی تو اس نے مجھے گھور کر دیکھا اور مونچھوں پر تاؤ دے کر لال آنکھیں گھمائیں، جیسے کچا چبا جائے گا۔ میں خوف زدہ ہو کر جھینپتے ہوئے ریڑھی دھکیلتا، کنی کترا کر، آگے نکل گیا۔ بڑی سڑک سے پہلے گلی کے نکڑ پر بجلی کے کھمبے کے ساتھ مجھے ریڑھی کھڑی کرنے کی جگہ مل گئی۔ میں نے ریڑھی وہیں ٹکا لی۔

جوں جوں وقت گزرا، بازار کی رونق بڑھتی گئی۔ میرا پہلا گاہک آدھ کلو گنڈیری خرید کر لے گیا تو مجھے لگا میں دنیا میں آنے کا مقصد پا گیا ہوں۔

میں نے خیالوں ہی خیالوں میں دن بھر کی ’’وٹک‘‘ رجو کی ہتھیلی پر رکھی اور مسکرا دیا۔

اگلے دو گھنٹے میں دو کلو گنڈیریاں مزید بک گئیں۔ بِکری کی رفتارتسلی بخش نہیں تھی۔ خود کو دلاسا دیا کہ پہلا دن ہے، نیا اڈہ ہے، رفتہ رفتہ گاہک بڑھ جائیں گے۔

شام تک پانچ کلو گنڈیریاں بک گئیں۔

کٹی ہوئی گنڈیریوں میں سے ابھی بھی کافی بچ رہی تھیں۔

میں نے حساب لگایا کہ دھندہ سمیٹوں تو اسی وقت تک گھر پہنچ جاؤں گا جس وقت رات کو ابا گھر پہنچ جاتا تھا۔

ترازو باٹ سنبھالے، بچی ہوئی گنڈیریوں کو ململ کے کپڑے سے ڈھانپا اور گھر روانہ ہوا۔

گھر کا دروازاہ کھٹکھٹایا تو رجو بھاگتی آئی، دروازہ کھولا اور ریڑھی کو میرے ساتھ دھکیلتی گھر کے اندر لے گئی۔ میں نے ریڑھی عین وہیں کھڑی کی جہاں ابا کھڑی کیا کرتا تھا اور اوک بھر گنڈیریاں پکڑ کر رضیہ کی طرف دیکھا۔

میرا دل بھر آیا۔

ذرا سنبھل کر میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور دِن بھر کی کمائی نکال کر رجو کے ہاتھ پر رکھی۔

’’یہ لو بھلی لوک آج کی ’’وٹک‘‘۔

مجھے گنوں کے لئے رقم نہیں چاہئے تھی کیونکہ میرے کل کے بچے آدھے گنے ابھی باقی تھے۔

اگلے دن پھر معمول کے مطابق میں ریڑھی لے کر کل والی جگہ پر جا ٹِکا۔

ابھی ریڑھی کھڑی ہی کی تھی کہ خاکروب جھاڑو پکڑے آپہنچا اور پانچ روپے کا تقاضہ کرنے لگا۔ پتہ چلا کہ یہ روزانہ کا بھتہ اسے سب ریڑھی والے دیتے ہیں۔ شکر ہے جیب میں دس روپے تھے، سو اُس سے جان چھڑائی۔

آج گاہکی کل کی نسبت بہتر تھی۔ دوپہر تک تین چار کلو گنڈیریاں نکل گئیں۔ میں خوش تھا کہ کام چل نکلا ہے اور جلد ہی ابے جتنی کمائی کرنے لگوں گا۔

سہ پہر تین بجے کے قریب بازار میں ایک غلغلہ اٹھا۔

آناً فاناً دو ٹرک اور درجنوں کارندے غارت گری کرتے آ وارد ہوئے۔

فروٹ چاٹ والا مچھندر ریڑھی بھگا کر قریبی گلی میں گھس گیا۔ میں ابھی حیرت زدہ، حواس باختہ صورت حال سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ میری ریڑھی قابو کر کے بڑی سرعت سے گنڈیریوں اور باقی ساز و سامان سمیت ٹرک پر لاد دی گئی۔ میں نے بھاگ کر ٹرک پر چڑھنے کی کوشش کی تو ایک ڈنڈا میرے سر پر پڑا اور ایک تھپڑ میرے منہ پر۔ میں درد اور توہین کے باعث ساکت ہو کر رہ گیا۔

میرے دیکھتے ہی دیکھتے میونسپلٹی کا تہہ بازاری کا عملہ اور ٹرک میری ساری کائنات سمیٹ کر غائب ہو گئے۔

شام گئے میں لٹا پٹا گھر پہنچا۔

رجو مجھے یوں بدحال دیکھ کر سخت پریشان ہوئی۔

اگلی صبح اور بُری ثابت ہوئی۔

ماسٹر غلام نبی صبح ہی صبح آدھمکا۔ بولا ابا کی شرافت کی وجہ سے اس نے کئی مہینے سے ریڑھی کا کرایہ نہیں لیا تھا اور اب ریڑھی ہی چلی گئی تھی۔ اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ وہ جرمانہ بھر کر میونسپلٹی سے اپنی ریڑھی واپس لے آئے گا اور باقی کرایہ بھی نہیں مانگے گا۔ لیکن آئندہ کے لئے مجھ نکمے کو ریڑھی نہیں دے گا۔

میں اور رجو اتنے پریشان ہوئے کہ ہمارے منہ سے کوئی دلیل بھی نہ نکلی۔ بس ٹک ٹک اسے غصے سے بھنا کر جاتا دیکھتے رہے۔

اس کے جانے کے کافی دیر بعد تک ہم میں سے کوئی کچھ نہ بولا۔

ہم بس بے حس و حرکت سے ہو گئے۔

ایسے لگا جیسے ابا اور اماں کی محبت کی نشانی کوئی ہم سے چھین لے گیا ہو۔

جیسے ہمارے گھر کی رونق چھن گئی ہو۔

جیسے جینے کی امید مدھم پڑ گئی ہو۔

دو دن تک ہم اس صدمے سے بے حال رہے۔ رجو گھر کے کام کاج میں دل لگانے کی کوشش کرتی لیکن پھر پھرا کے خالی خالی سی میرے پاس آ بیٹھتی۔

میں نے کوشش کی کہ گھر سے باہر کوئی مصروفیت ڈھونڈھوں، کام کی کوئی سبیل سوچوں، لیکن کچھ بھی نہ سوجھا۔

اسی خالی کھوکھلے پن کو لئے میں ایک دن سڑکوں پر نکل گیا۔ شام تک آوارہ گھوما کیا۔ تھک گیا تو کٹی پتنگ کی طرح ڈولتا اک چوک میں بنے فوارے کے گرد بنی فٹ ڈیڑھ فٹ اونچی دیوار پر ٹک گیا۔

چوراہا زیادہ مصروف نہیں تھا۔ جب لال بتی ایک طرف کی گاڑیوں کو روکتی تو اشارہ کھلتے کھلتے پانچ سات گاڑیاں اکٹھی ہو جاتیں۔ دو بھکاری لڑکے اور ایک بوڑھی عورت گاڑیوں کے بند شیشوں پر دستک دے کر بھیک مانگتے۔ ایک ادھیڑ عمر آدمی جس کا ایک بازو کٹا ہوا تھا گاڑیاں صاف کرنے والے کپڑے کے ٹکڑے بیچ رہا تھا۔ اچانک میری نظر پندرہ سولہ سال کے ایک لڑکے پر پڑی جو سرکنڈے پر لال گلاب اور سفید چمبیلی کے پھولوں والے گجرے بیچ رہا تھا۔ اس لڑکے کے کپڑے صاف اور بال تیل لگاکر کنگھی کئے ہوئے تھے۔ اس نے ایک کان میں چنبیلی کا پھول اڑس رکھا تھا اور چہرے پرمعصومیت تیرتی پھرتی تھی۔

میں نے غور کیا تو مجھے یہ لڑکا چوک میں موجود سب کاروباری لوگوں سے بہتر اور دلچسپ لگا۔

اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور جانے کتنے دن کے بعد میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

میں فوارے کی دیوار سے اٹھا اور تیز تیز قدموں سے اپنے محلے کی طرف روانہ ہوا۔

ہماری گلی کے نکڑ پر شہباز پھولوں والا، حسب معمول ، اپنی دکان مہکائے بیٹھا تھا۔

’’یار شہباز مجھے گلاب کے پھول اور چنبیلی کی کلیاں چاہئیں۔‘‘

میری بات سن کر وہ چونکا۔

بہرحال میں نے بڑے عمدہ ترو تازہ پھول اور کلیاں خریدیں اور گھر روانہ ہوا۔

رجو نے مجھے آتے دیکھا تو اس کے چہرے پر اطمینان اور آنکھوں میں چمک آگئی۔

’’رضیہ رانی مجھے گجرے بنا دو۔ میں گجرے بیچوں گا۔‘‘

میں نے پھولوں کا پیکٹ رجو کے حوالے کیا۔

رضیہ نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ کچھ کہنے کو منہ کھولا، لیکن بات کئے بغیر ہی پیکٹ لے کر کمرے میں گھس گئی۔

رات بیٹھ کر بڑی دلجمعی سے رجو نے پچیس گجرے بنائے۔ اتنی نفاست سے کہ دل خوش ہو گیا۔ ہمیں پتہ تھا کہ گجرے زیادہ تر شام کو بکتے ہیں اس لئے ہم نے گجروں کو پانی چھڑک کر دن بھر تازہ رکھا۔ شام سے پہلے میں گجرے سرکنڈے پر سجائے گھر سے کوس بھر دور اس چوک پر جا کھڑا ہوا جس کی ایک سمت میں ایک بڑی مارکیٹ کار استہ تھا اور دوسری طرف بڑے بڑے فلیٹس والی بلند و بالا عمارات تھیں۔

شام تک میرے دو تین گجرے ہی بکے۔

مجھے گھر کی فکر تھی، رجو سے پیار تھا اورآنے والی روح کے لئے میرا دل محبت سے بھرا ہوا تھا۔ مجھے کم از کم اتنی رقم کمانی تھی کہ میں گھر چلا سکوں۔

مجھے سب گجرے بیچنے تھے۔

ایک ایک گجرے کا معاوضہ میرے آنے والے کل کی عافیت کی ضمانت تھا۔

ہر بکتے گجرے کے ساتھ میرے اعتماد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔

رات ہونے پر لوگ جوڑوں کی شکل میں تقریبات کے لئے نکلے تو گجروں کی بِکری میں تیزی آئی۔

پھر کافی دیر بیکار انتظار کرنا پڑا۔

اسی دوران سب سے زیادہ مزہ ایک ستر پچھتر سالہ جوڑے کو گجرا بیچ کر آیا۔ بوڑھے مرد نے بڑے رچاؤ سے خرید کر اپنے کانپتے ہاتھوں سے گجرا اپنی ہم عمر خاتون کو پہنایا۔ مجھے ابا اور اماں یاد آگئے اور میں اداس ہو گیا۔

’’یقینا آج اس عمر رسیدہ جوڑے کی شادی کی سالگرہ ہوگی۔‘‘

میرے ذہن میں خیال آیا۔

’’پچاسویں شاید؟‘‘

میرا ذہن آوارہ ہوا۔

’’لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ وہ تو پہلی سالگرہ والوں سے زیادہ خوش اور مطمئن لگ رہے تھے۔

اس عمر میں بھی ایک دوسرے میں منہمک۔‘‘

رات بھیگی تو ایک اور طرح کے گاہک آنا شروع ہو گئے۔ وہ جنہیں دیکھنے ہی سے پتہ چل رہا تھا کہ شب بھر کا اہتمام کئے پھرتے ہیں۔

گجرے بیچتے بیچتے تقریباً آدھی رات بیت گئی۔ میں نے رجو کے انتظار کا سوچا، لیکن پھر فیصلہ کیا کہ میرے کامیاب کاروبار کا پہلا دن ہے، میں رجو کو سمجھا دوں گا کہ اتنی رات گئے کیوں واپس آیا ہوں، لیکن سب گجرے بیچ کر ہی جاؤں گا۔

رات ڈیڑھ بجے کے قریب میرے پاس صرف ایک گجرا رہ گیا۔

جیب میں رکھے کرنسی نوٹوں کی حرارت میں اپنے سینے میں محسوس کر رہا تھا۔

اب سڑک پر اِکا دُکا گاڑی بہت دیر بعد آتی۔

سڑکیں سنسان ہونے لگیں۔ چوک کے اشارے سرخ اور سبز روشنی دکھانے کی بجائے بار بار اور جلدی جلدی مسلسل پیلی روشنی دکھانے لگے۔ اس کا مطلب تھا کہ اب اس چوک میں اشارے کے سبز ہونے کے انتظار میں گاڑی کھڑی کرنا ضروری نہیں۔

میں نے اپنے آخری گجرے پر نظر ڈالی۔

اسی اثنا میں ایک بڑی سی شاندار سیاہ رنگ کی کار آکر میرے پاس رک گئی۔ پچھلی نشست کا شیشہ کھلا۔ ایک ادھیڑ عمر خوش پوش شخص نظر آیا جس کا سرخ و سفید چہرہ دمک رہا تھا۔ آنکھیں چڑھی ہوئی تھیں۔ ساتھ کی سیٹ پر کوئی بائیس تئیس سال کی نوخیز لڑکی، کہ جس کا حسن نظر ڈالنے کی ہمت بھی چھین رہا تھا، تقریباً نیم دراز مرد کے اوپر گری پڑی تھی۔

’’مجھے گجرا دے دو۔‘‘

مجھے مرد کی لکنت بھری لہراتی آواز سنائی دی۔

میں بے حس و حرکت کھڑا رہا۔

لڑکی نے مدہوشی میں اپنا بازو اوپر اٹھایا اور گورے بازو کی خوب صورت کلائی پر اپنے دوسرے ہاتھ سے دائرہ بنایا کہ گجرا کہاں چاہئے۔

مرد نے دوبارہ ہاتھ باہر نکال کر مجھے اشارہ کیا،

’’گجرا دے دو۔‘‘

میں پھر ویسے ہی کھڑا رہا۔

مرد کا ہاتھ اس کے لباس میں غائب ہوا۔ واپس نکلا تو اس کے ہاتھ میں پانچ سو کا نیا نوٹ تھا جو اس نے میری طرف بڑھایا۔

’’لڑکے یہ سارے پیسے لے لو اور مجھے گجرا دے دو۔‘‘

میں نے ایک لحظہ کے لئے سوچا۔ پانچ سو کا نیا نوٹ سامنے لہرا رہا تھا۔

مجھے فیصلہ کرنے میں زیادہ دیر نہ لگی۔

میں فیصلہ کن انداز میں ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔

کھڑکی کی طرف نظر کی تو حسینہ ابھی بھی اپنی گوری گلابی کلائی پر دوسرے ہاتھ کا ہالہ بناتی خیالی گجرا پہن رہی تھی۔

یہ اشارہ مدہوش مرد کی بے تابی کو دو چند کرتا تھا۔

اچانک مجھے اس گوری کلائی کی جگہ رجو کی کھردری سی سانولی کلائی، ایک لحظہ کے لئے، نظر آئی اور غائب ہو گئی۔

میرا فیصلہ اٹل ہو گیا۔

’’گجرے ختم ہو گئے ہیں بابو جی!‘‘

میں دو قدم مزید پیچھے ہٹا اور اپنے گھر کی طرف منہ کر کے تیز تیز چلنے لگا۔

چند قدم چل کر میں نے مڑ کر دیکھا تو گورا، تنومند بازو پانچ سو کا نیا نوٹ ابھی تک میری طرف لہرا رہا تھا۔

میری رفتار میرے گھر کی سمت اور تیز ہو گئی۔

رجو میری منتظر ہوگی اور اماں کی اوک بھر گنڈیریاں میں کسی قیمت پر نہیں بیچ سکتا تھا۔

پانچ سو روپے میں بھی نہیں۔

یہ میری ’’شہزادی‘‘ کا گجرا تھا۔

آخری بچا ہوا گجرا۔

٭٭٭