آخری گجرا

افسانہ نگار: محمد جاوید انور

اور پھر ہماری شادی ہو گئی۔

رضیہ میرے خوابوں کی شہزادی تھی۔

میں کیا اور میرے خواب کیا۔

لیکن خواب تو سبھی کے ہوتے ہیں اور خوابوں کی شہزادیاں بھی۔

میرے پاس تھا کیا اسے دینے کو؟ پھر بھی وہ خوش تھی کہ جو کچھ چھوڑ کر آرہی تھی وہ بھی کسی کو شہزادی نہیں بنا سکتا، بس خوابوں کی شہزادی ہی بنا سکتا تھا۔

چاچے فضل دین کی رجو میرے ہی نہیں، میرے جیسے بہت سے گئے گزرے شہزادوں کے خوابوں کی شہزادی تھی اور ہم بھی بس شہزادے ہی تھے۔

اپنی ماؤں کے شہزادے۔ تنگ، کیچڑ بھری گلیوں، بدبودار کھلی نالیوں اور ان کے کنارے آوارہ پاخانے پر بھنبھناتی مکھیوں کے ساتھ مانوس، بغیر منہ دھوئے سارا سارا دن آوارہ گردی کرنے والے شہزادے۔ "آخری گجرا " پڑھنا جاری رکھیں